پیٹرول سستا ہوا تو اشیائے خورونوش اور کرائے کب کم ہوں گے؟


حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان بظاہر عوام کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے، لیکن اس فیصلے کے بعد ہر شہری کے ذہن میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر روزمرہ استعمال کی اشیاء اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی کب آئے گی؟



پاکستان میں ہر بار جب پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ٹرانسپورٹرز، رکشہ ڈرائیورز اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد فوری طور پر اپنے کرایوں اور خدمات کی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔ سبزیوں، پھلوں، دودھ، آٹے اور دیگر ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی چند ہی دنوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔ تاہم جب حکومت ایندھن کی قیمتوں میں کمی کرتی ہے تو اس کے مثبت اثرات بازاروں اور عام شہری کی جیب پر دکھائی نہیں دیتے۔


عوام کا کہنا ہے کہ اگر پیٹرول سستا ہو گیا ہے تو پھر سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی کمی آنی چاہیے۔ اسی طرح پبلک ٹرانسپورٹ، رکشوں اور مختلف روٹس پر چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں بھی کمی کی جانی چاہیے تاکہ عام شہریوں کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔


شہریوں کا مؤقف ہے کہ صرف پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کافی نہیں، بلکہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس ریلیف کے ثمرات عوام تک بھی منتقل ہوں۔ انتظامیہ کو بازاروں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مؤثر نگرانی کرنی چاہیے اور ان عناصر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو ایندھن سستا ہونے کے باوجود من مانی قیمتیں اور زائد کرایے وصول کر رہے ہیں۔


ماہرین کے مطابق اگر ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز فعال کردار ادا کریں تو پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اثرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، ایندھن سستا ہونے کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئے گی اور مہنگائی کا بوجھ بدستور عوام کے کندھوں پر رہے گا۔


عوام کی نظریں اب حکومت اور متعلقہ اداروں پر ہیں کہ وہ مہنگائی اور من مانی کرایوں کے خلاف کب مؤثر اقدامات کرتے ہیں اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی فائدہ کب عام شہری تک پہنچتا ہے۔


*تحریر: محمد عارف خان*

Comments